AI Generated
ایرانی رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے یوم خلیج فارس کے موقع پر جاری کردہ ایک خصوصی پیغام میں غیر ملکی طاقتوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کی علاقائی موجودگی کو مسترد کر دیا ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں لالچ کی بنیاد پر فساد پھیلانے والے غیر ملکیوں کی جگہ سمندر کی تہہ کے علاوہ کہیں اور نہیں ہے۔
ایرانی رہنما کا ماننا ہے کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کی تاریخ میں اب ایک نیا باب رقم کیا جا رہا ہے جس کا رخ ماضی سے بالکل مختلف ہوگا۔ ان کے بقول اس خطے کا روشن مستقبل مکمل طور پر امریکہ کے اثر و رسوخ سے پاک ہوگا جس میں بیرونی مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔
غیر ملکی اڈوں کی حیثیت اور علاقائی سلامتی
مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے خطاب میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس اہم عالمی آبی گزرگاہ میں عدم تحفظ کی سب سے بڑی وجہ امریکی موجودگی ہے۔ ان کے مطابق یہاں قائم غیر ملکی فوجی اڈے نہ تو اپنی حفاظت کر سکتے ہیں اور نہ ہی خطے کے دیگر ممالک کی سلامتی کی کوئی ضمانت دے سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اب آبنائے ہرمز کا مکمل کنٹرول سنبھال کر اس پورے خطے کو پہلے سے زیادہ محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کرے گا۔ ان کا ہدف دشمن قوتوں کی جانب سے اس گزرگاہ کے معاشی اور تزویراتی استحصال کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔
آبنائے ہرمز کا نیا انتظامی ڈھانچہ
ایرانی سپریم لیڈر نے ایک نئے انتظامی نظام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس پر عملدرآمد سے خطے کی تمام اقوام برابر مستفید ہوں گی۔ ان کے مطابق نئے قانونی قواعد کا نفاذ علاقائی ممالک کے لیے ترقی، آسائش اور خوشحالی کے نئے راستے کھول دے گا۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی بحریہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ تہران اس ناکہ بندی کو اپنی خود مختاری پر حملہ قرار دیتا رہا ہے اور اب اس کے مقابلے میں نئی حکمت عملی اپنا رہا ہے۔
طویل روپوشی اور موجودہ سیاسی صورتحال
قابل ذکر بات یہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنی تقرری کے بعد سے گذشتہ دو ماہ کے دوران عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے آغاز کے بعد سے ان کی کوئی نئی ویڈیو یا تصویر بھی منظر عام پر نہیں آئی ہے۔
حالیہ عرصے میں ان سے منسوب صرف چند تحریری پیغامات ہی مقامی میڈیا میں شائع ہوئے ہیں جس نے سیاسی حلقوں میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ تاہم ان کا یہ تازہ ترین بیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایرانی پالیسیوں میں ممکنہ بڑی تبدیلیوں کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔