پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے جہاں وفاقی دارالحکومت میں اظہار رائے کی آزادی پر قدغنوں اور سیاسی استعفوں کی خبروں نے عوامی توجہ حاصل کر لی ہے۔ حالیہ چند دنوں میں ہونے والی سیاسی پیش رفت اور حکومتی فیصلوں نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
مشہور تجزیہ کار ڈاکٹر شہباز گل نے اپنے حالیہ وی لاگ میں ان تمام معاملات پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ انہوں نے اسلام آباد میں ایک نوجوان کی گرفتاری کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح صرف ایک سوشل میڈیا پوسٹ کی بنیاد پر ریاست حرکت میں آ گئی۔
اسلام آباد میں اظہار رائے پر قدغن اور انسانی حقوق
اسلام آباد کے علاقے تارنول میں ایک نوجوان کو محض اس لیے گرفتار کر لیا گیا کیونکہ اس نے ایک پوسٹ میں مقامی ریلوے کراسنگ کا موازنہ آبنائے ہرمز سے کیا تھا۔ اس نوجوان کا موقف تھا کہ اگر عوامی مطالبات پورے نہ ہوئے تو اس راستے کو بند کر کے حکام کو مجبور کیا جا سکتا ہے۔
اس اقدام کو ریاست کی جانب سے آزادانہ سوچ پر سخت حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں ملک میں آمرانہ ماحول کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ارشد شریف جیسے صحافیوں کی مثالیں بھی اس تناظر میں دی جا رہی ہیں جہاں سچ بولنے کی قیمت چکانی پڑی۔
پی ٹی آئی ارکان کے استعفوں کی افواہیں اور حقیقت
پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے حوالے سے یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ عمران خان نے اپنے تمام ارکان اسمبلی کو مستعفی ہونے کی ہدایت کر دی ہے۔ ان خبروں نے سیاسی حلقوں میں ایک نیا ہیجان پیدا کر دیا تھا۔
تاہم عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ارکان اسمبلی اپنی نشستیں چھوڑنے کے لیے آسانی سے تیار نہیں ہوتے اور ایسی کسی بھی ہدایت کی صورت میں اندرونی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی اسپیکر کے مراعات کا تنازع
خیبر پختونخوا اسمبلی میں ایک متنازعہ بل پیش کیا گیا تھا جس کا مقصد اسپیکر کو ریٹائرمنٹ کے بعد تاحیات مراعات فراہم کرنا تھا۔ ان مراعات میں گریڈ 17 کا سیکرٹری، گاڑی اور تاحیات سیکیورٹی شامل تھی۔
عوامی سطح پر شدید ردعمل آنے کے بعد اس بل سے تاحیات مراعات کی شق کو مبینہ طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے بھی اسی طرح کی مراعات حاصل کرنے کی کوشش کی تھی جسے عوامی سطح پر ناپسند کیا گیا تھا۔
عالمی جیو پولیٹکس اور تیل کی قیمتوں پر اثرات
عالمی سطح پر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر رہی ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے سوال کو احمقانہ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
دوسری جانب وینزویلا میں ایک امریکی فوجی کی گرفتاری کی خبریں سامنے آئی ہیں جس پر صدر ن نکولس مادورو کے خلاف جاسوسی کا الزام ہے۔ ان عالمی تنازعات اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
مریم نواز کا بائیو گیس منصوبہ اور پنجاب کی معاشی صورتحال
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے حال ہی میں دیہاتوں کے لیے 3 ارب روپے کے بائیو گیس منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے اسے عوامی فنڈز کا ضیاع قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ صوبے میں بنیادی طبی سہولیات جیسے سانپ کے کاٹنے کی ویکسین تک دستیاب نہیں ہے۔
رپورٹس کے مطابق پنجاب کے شعبہ صحت اور تعلیم میں 13 ہزار سے زائد ملازمین کو فارغ کر دیا گیا ہے۔ راجن پور کے صفائی کارکنوں کی کئی ماہ سے تنخواہیں بند ہیں جس کی وجہ سے وہ کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
بین الاقوامی کھیل اور ریئل اسٹیٹ کی صورتحال
عالمی معیشت میں بھی بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جہاں دبئی میں ریئل اسٹیٹ کی قیمتیں تیزی سے نیچے آ رہی ہیں۔ یہ صورتحال کورونا کی وبا کے دوران نظر آنے والی معاشی مندی کی یاد تازہ کر رہی ہے۔
کھیلوں کے میدان سے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ اٹلی نے فیفا ورلڈ کپ میں کسی بھی چور دروازے سے داخل ہونے کی پیشکش ٹھکرا دی ہے۔ اٹلی کا موقف ہے کہ وہ صرف میدان میں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ہی عالمی مقابلے کا حصہ بننا پسند کریں گے۔
مجموعی صورتحال کا جائزہ
پاکستان کی اندرونی سیاست ہو یا عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیاں، ہر طرف ایک غیریقینی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ ڈاکٹر شہباز گل کے مطابق ان تمام واقعات کا آپس میں گہرا تعلق ہے جو مستقبل کی سیاست پر اثرانداز ہوں گے۔
عوام کو اس وقت بنیادی سہولیات کی فراہمی اور معاشی استحکام کی ضرورت ہے، جبکہ سیاسی قیادت تجرباتی منصوبوں اور آپسی چپقلش میں مصروف نظر آتی ہے۔ آنے والے دن پاکستان کی سیاست اور معیشت کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔