ایثار رانا کا دعویٰ: کیا عمران خان کو اڈیالہ جیل سے منتقل کیا جا رہا ہے؟

پاکستان کے معروف تجزیہ نگار اور صحافی ایثار رانا نے اپنے حالیہ وی لاگ میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، خاص طور پر اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے چند سنسنی خیز دعوے کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جیل کے سکیورٹی پروٹوکول میں ہونے والی حالیہ تبدیلیاں کسی بڑے منصوبے کا پیش خیمہ ہو سکتی ہیں۔

وی لاگ کے آغاز میں ایثار رانا نے حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی پر شدید طنز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قیمت 400 روپے کے بجائے 399 روپے مقرر کرنا عوام کے ساتھ ایک مذاق ہے، جسے ریلیف کا نام دے کر دھوکہ دیا جا رہا ہے۔

اڈیالہ جیل میں سی سی ٹی وی کیمروں کی مبینہ منتقلی

ایثار رانا نے اپنے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ نور خان ایئر بیس سے اڈیالہ جیل کے راستے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کو مبینہ طور پر ہٹایا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس انتہائی حساس سکیورٹی اقدام کے پیچھے کیا مقاصد چھپے ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ نگار کے مطابق ایسی افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ عمران خان کو خاموشی سے کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ پی ٹی آئی کے بانی کو بلوچستان کی مچھ جیل میں منتقل کیا جا سکتا ہے تاکہ ان کے حامیوں اور خاندان کے افراد کی رسائی کو مشکل بنایا جا سکے۔

ایثار رانا نے عمران خان کی ہمت اور استقامت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جیل میں ان کا ایک دن ان کے سیاسی حریفوں کی سالہا سال کی سیاست پر بھاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قید و بند کی صعوبتیں بانی پی ٹی آئی کے عزم کو کمزور کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

خیبر پختونخوا کی سیاست اور کابینہ میں تبدیلیاں

وی لاگ میں خیبر پختونخوا کی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کی اندرونی سیاست پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ایثار رانا نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کی ممکنہ برطرفی کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں کا تذکرہ کیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ بیریسٹر گوہر نے ان افواہوں کی سختی سے تردید کی ہے۔

صوبائی کابینہ میں ہونے والی تبدیلیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان کو ہٹا کر ان کی جگہ بیریسٹر سیف کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ ایثار رانا کا تجزیہ ہے کہ بیریسٹر سیف ایک ایسی شخصیت ہیں جو اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف دونوں کے لیے قابل قبول ہو سکتے ہیں۔

پی ٹی آئی کی بیرونی قیادت پر کڑی تنقید

ایثار رانا نے جیل سے باہر موجود پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے خاص طور پر پنجاب میں پارٹی کارکنوں کو متحرک کرنے میں ناکامی پر افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بانی پی ٹی آئی اور ان کی ہمشیرہ جیل میں ہیں، تب باہر بیٹھی قیادت صرف بیانات تک محدود ہے۔

انہوں نے سلمان اکرم راجہ جیسے رہنماؤں کے رویے پر سوال اٹھایا کہ وہ کارکنوں کو یہ کیوں کہتے ہیں کہ وہ اپنے رسک پر احتجاج کریں۔ ایثار رانا کے مطابق سوٹ پہن کر سیاست کرنے والے رہنماؤں کو ان کارکنوں کی قربانیوں کا احساس کرنا چاہیے جو سخت حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔

صحافتی اقدار اور سوشل میڈیا پر اخلاقی حدود

وی لاگ کے آخری حصے میں ایثار رانا نے اپنی ساتھی صحافی ثمینہ پاشا کے خلاف سوشل میڈیا پر کی جانے والی بدزبانی کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے احسن چٹھہ نامی شخص کا ذکر کیا جس نے مبینہ طور پر صحافیوں کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی۔

انہوں نے ثمینہ پاشا کو ایک بہادر خاتون قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مشکل ترین حالات میں بھی حق گوئی کا علم بلند رکھا۔ ایثار رانا نے اپنے مداحوں اور کارکنوں سے جذباتی اپیل کی کہ وہ جواب میں کسی کی مستورات یا معصوم بچوں کو نشانہ نہ بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنی تہذیب اور اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔

ایک تبصرہ چھوڑ دو